بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دو مینڈھوں کی قربانی کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: دو مینڈھوں کی قربانی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1494 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ , ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ , وَسَمَّى , وَكَبَّرَ , وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَعَائِشَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي أَيُّوبَ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَبِي رَافِعٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي بَكْرَةَ أَيْضًا , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور (ذبح کرتے وقت) اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، عائشہ، ابوہریرہ، ابوایوب، جابر، ابو الدرداء، ابورافع، ابن عمر اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأضاحي 7 (5554)، و 9 (5558)، و 13 (5564)، و 14 (5565)، والتوحید 13 (7399)، صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، سنن ابی داود/ الأضاحي 4 (2794)، سنن النسائی/الأضاحي 14، (4391، 4392)، و 28 (4420)، و 29 (4421)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي (3120) (تحفة الأشراف: 1427)، و مسند احمد (3/99، 115، 170، 178، 189، 211، 214، 222، 255، 258، 272، 279، 281)، سنن الدارمی/الأضاحي1 (1988) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے یہ مسائل ثابت ہوتے ہیں: (۱) قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہیئے، گو نیابت بھی جائز ہے، (۲) ذبح سے پہلے بسم اللہ اللہ اکبر پڑھنا چاہیئے (۳) ذبح کرتے وقت اپنا پاؤں جانور کے گردن پر رکھنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3120)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3120)