بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1451 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، هُشَيْمٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَأَيُّوبَ بْنِ مِسْكِينٍ ، قَتَادَةَ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , وَأَيُّوبَ بْنِ مِسْكِينٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , قَالَ: رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , رَجُلٌ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ لَأَجْلِدَنَّهُ مِائَةً , وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا تھا، انہوں نے کہا: میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا: اگر اس کی بیوی نے اسے لونڈی کے ساتھ جماع کی اجازت دی ہے تو (بطور تادیب) اسے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو (بطور حد) اسے رجم کروں گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الحدود 28 (4458)، سنن النسائی/النکاح 70 (3362)، سنن ابن ماجہ/الحدود (2551)، (تحفة الأشراف: 11613)، و مسند احمد (6/272، 276، 276، 277)، سنن الدارمی/الحدود 20 (2374) (ضعیف) (سند میں ”حبیب بن سالم“ میں بہت کلام ہے، نیز بقول خطابی ان کا سماع نعمان رضی الله عنہ سے نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (2551)
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (2551)
حدیث نمبر: 1452 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، هُشَيْمٌ ، أَبِي بِشْرٍ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ نَحْوَهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ , قَالَ: أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ النُّعْمَانِ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ , قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا , يَقُولُ: لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ , إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ , وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّهُ قَالَ: كُتِبَ بِهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , وَأَبُو بِشْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا أَيْضًا , إنما قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ , فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَرُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْهُمْ عَلِيٌّ , وَابْنُ عُمَرَ , أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ , وقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ , وَلَكِنْ يُعَزَّرُ , وَذَهَبَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق , إِلَى مَا رَوَى النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ۱؎۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے،
۲- اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے،
۳- بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے، ابن مسعود کہتے ہیں: اس پر کوئی حد نہیں ہے، البتہ اس کی تادیبی سزا ہو گی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس (حدیث) کے مطابق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (ضعیف)»
وضاحت
۱؎: گویا قتادہ نے یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ہے۔
قال الشيخ الألباني
**
الحكم: **