بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1403 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الْبَصْرِيُّ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الْبَصْرِيُّ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يُرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ , وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي بَكْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جس نے کسی ایسے ذمی ۱؎ کو قتل کیا جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پناہ حاصل تھی تو اس نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا، لہٰذا وہ جنت کی خوشبو نہیں پا سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت (دوری) سے آئے گی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ابوہریرہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے،
۳- اس باب میں ابوبکرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الدیات 32 (2687)، (تحفة الأشراف: 14140) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایسا کافر جو کسی اسلامی مملکت میں مسلمانوں سے کیے ہوئے عہد و پیمان کے مطابق رہ رہا ہو خواہ جزیہ دے کر معاہدہ کر کے رہ رہا ہو یا دارالحرب سے معاہدہ یا امان پر دارالسلام میں آیا ہو، اسے مسلمانوں کی پناہ اس وقت تک حاصل ہو گی جب تک وہ بھی اپنے معاہدہ پر قائم رہے، یا اپنے وطن دارالحرب لوٹ جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2687)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2687)