بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب پا جائے تو کیا کرے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب پا جائے تو کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1285 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ..
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ فائدے کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ اور بھی سندوں سے مروی ہے،
۳ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ البیوع 73 (3508)، سنن النسائی/البیوع 15 (4495)، سنن ابن ماجہ/التجارات 43 (2242 و2243)، التحفة: 1655)، و مسند احمد (6/49، 208، 237) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (2242 - 2243)
الحكم: حسن، ابن ماجة (2242 - 2243)
حدیث نمبر: 1286 جامع ترمذی
أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، جَرِيرٌ ، هِشَامٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ ". قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عن هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عنْ هِشَامٍ أَيْضًا. وَحَدِيثُ جَرِيرٍ يُقَالُ: تَدْلِيسٌ دَلَّسَ فِيهِ جَرِيرٌ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَتَفْسِيرُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ، هُوَ الرَّجُلُ يَشْتَرِي الْعَبْدَ، فَيَسْتَغِلُّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِهِ عَيْبًا، فَيَرُدُّهُ عَلَى الْبَائِعِ، فَالْغَلَّةُ لِلْمُشْتَرِي لِأَنَّ الْعَبْدَ لَوْ هَلَكَ هَلَكَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِي، وَنَحْوُ هَذَا مِنَ الْمَسَائِلِ يَكُونُ فِيهِ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل نے اس حدیث کو عمر بن علی کی روایت سے غریب جانا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ کی نظر میں اس میں تدلیس ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں،
۳- مسلم بن خالد زنجی نے اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے۔
۴- جریر نے بھی اسے ہشام سے روایت کیا ہے،
۵- اور کہا جاتا ہے کہ جریر کی حدیث میں تدلیس ہے، اس میں جریر نے تدلیس کی ہے، انہوں نے اسے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا ہے،
۶- «الخراج بالضمان» کی تفسیر یہ ہے کہ آدمی غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب دیکھے اور اس کو بیچنے والے کے پاس لوٹا دے، تو غلام کی جو مزدوری اور فائدہ ہے وہ خریدنے والے کا ہو گا۔ اس لیے کہ اگر غلام ہلاک ہو جاتا تو مشتری (خریدار) کا مال ہلاک ہوتا۔ یہ اور اس طرح کے مسائل میں فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 17126) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن انظر ما قبله (1287)
الحكم: حسن انظر ما قبله (1287)