هَنَّادٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، مَنْصُورٌ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، هَنَّادٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الشَّيْطَانَ، وَالْإِثْمَ، يَحْضُرَانِ الْبَيْعَ فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَرِفَاعَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، رَوَاهُ مَنْصُورٌ، وَالْأَعْمَشُ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وغير واحد، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، وَلَا نَعْرِفُ لِقَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، أبي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قیس بن ابی غرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم (اس وقت)
«سماسرہ» ۱؎ (دلال) کہلاتے تھے، آپ نے فرمایا:
”اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت کے وقت شیطان اور گناہ سے سابقہ پڑ ہی جاتا ہے، لہٰذا تم اپنی خرید فروخت کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو
“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- قیس بن ابی غرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسے منصور نے بسند
«الأعمش وحبيب بن أبي ثابت»، اور دیگر کئی لوگوں نے بسند
«أبي وائل عن قيس بن أبي غرزة» سے روایت کیا ہے۔ ہم اس کے علاوہ قیس کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہو،
۳- مؤلف نے بسند
«أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق بن سلمة وشقيق هو أبو وائل عن قيس بن أبي غرزة عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» اسی جیسی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے،
۴- یہ حدیث صحیح ہے،
۵- اس باب میں براء بن عازب اور رفاعہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1208] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ البیوع 1 (3326)، سنن النسائی/الأیمان والنذور 22 (3831)، والبیوع 7 (4475)، سنن ابن ماجہ/التجارات 3 (3145)، (تحفة الأشراف: 11103)، مسند احمد (4/6، 280) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «سماسرہ» ، «سمسار» کی جمع ہے، یہ عجمی لفظ ہے، چونکہ عرب میں اس وقت عجم زیادہ تجارت کرتے تھے اس لیے ان کے لیے یہی لفظ رائج تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لیے «تجار» کا لفظ پسند کیا جو عربی ہے، «سمسار» اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدار) کے درمیان دلالی کرتا ہے۔
۲؎: یعنی صدقہ کر کے اس کی تلافی کر لیا کرو۔ قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2145)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2145)