بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہونے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل باب: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1182 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ ، الْقَاسِمُ ، عَائِشَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَبُو عَاصِمٍ ، مُظَاهِرٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وحَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا مُظَاهِرٌ بِهَذَا، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، وَمُظَاهِرٌ لَا نَعْرِفُ لَهُ فِي الْعِلْمِ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہے اور اس کی عدت دو حیض ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے مظاہر بن اسلم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور مظاہر بن اسلم کی اس کے علاوہ کوئی اور روایت میرے علم میں نہیں،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الطلاق 17 (2340) (تحفة الأشراف: 18555) (ضعیف) (سند میں مظاہر ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (2080) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (452) ، ضعيف أبي داود (475 / 2189) ، المشكاة (3289) ، الإرواء (2066) ، ضعيف الجامع الصغير (3650) //
قال الشيخ زبير على زئي
(1182) إسناده ضعيف / د 2189، جه 2080
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (2080) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (452) ، ضعيف أبي داود (475 / 2189) ، المشكاة (3289) ، الإرواء (2066) ، ضعيف الجامع الصغير (3650) //