بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رضاعت کی حرمت دو سال سے کم کی عمر ہی میں دودھ پینے سے ثابت ہو گی۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل باب: رضاعت کی حرمت دو سال سے کم کی عمر ہی میں دودھ پینے سے ثابت ہو گی۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1152 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرِّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ، وَكَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الرَّضَاعَةَ لَا تُحَرِّمُ إِلَّا مَا كَانَ دُونَ الْحَوْلَيْنِ، وَمَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ الْكَامِلَيْنِ، فَإِنَّهُ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَهِيَ امْرَأَةُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ انتڑیوں کو پھاڑ دے ۱؎، اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ رضاعت کی حرمت اس وقت ہوتی ہے جب بچے کی عمر دو برس سے کم ہو، اور جو دو برس پورے ہونے کے بعد ہو تو اس سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18285) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے۔
۲؎: یعنی جب بچہ دو برس سے کم کا ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1946)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1946)