بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: میت کی تعریف کرنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: میت کی تعریف کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1058 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ "، ثُمَّ قَالَ: " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (جنت) واجب ہو گئی پھر فرمایا: تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمر، کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 812) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 85 (1367) والشہادات 6 (2642) صحیح مسلم/الجنائز 20 (949) سنن النسائی/الجنائز50 (1934) سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1491) مسند احمد (3/179، 186، 197، 245، 281) من غیر ہذا الوجہ۔»
وضاحت
۱؎: حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے کہا: یہ فلاں کا جنازہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا اور اللہ کی اطاعت کرتا تھا اور اس میں کوشاں رہتا تھا۔
۲؎: یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم اور ان کے طریقے پر چلنے والوں سے ہے، ابن القیم نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1491)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1491)
حدیث نمبر: 1059 جامع ترمذی
يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ ، أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَمَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: أَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةٌ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ". قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ، قَالَ: " وَاثْنَانِ "، قَالَ: وَلَمْ نَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَاحِدِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ اسْمُهُ: ظَالِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالاسود الدیلی کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس آ کر بیٹھا اتنے میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی تعریف کی عمر رضی الله عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، میں نے عمر رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا چیز واجب ہو گئی؟ تو انہوں نے کہا: میں وہی بات کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہی ہے۔ آپ نے فرمایا: جس کسی بھی مسلمان کے (نیک ہونے کی) تین آدمی گواہی دیں، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ ہم نے عرض کیا: اگر دو آدمی گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا: دو آدمی بھی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 85 (1368) والشہادات 6 (2643) سنن النسائی/الجنائز 50 (1936) (تحفة الأشراف: 10472) مسند احمد (1/22، 30، 46) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الأحكام (45)
الحكم: صحيح الأحكام (45)