هَنَّادٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَبَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ. عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”قبروں پر نہ بیٹھو
۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو
“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1050] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز33 (972) سنن ابی داود/ الجنائز 77 (3229) سنن النسائی/القبلة 11 (761) (تحفة الأشراف: 11169) مسند احمد (4/135) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس میں قبر پر بیٹھنے کی حرمت کی دلیل ہے، یہی جمہور کا مسلک ہے اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے انسان کی تذلیل ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے توقیر و تکریم سے نوازا ہے۔
۲؎: اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مشرکین کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے اور غیر اللہ کی تعظیم کا پہلو بھی نکلتا ہے جو شرک تک پہنچانے والا تھا۔ قال الشيخ الألباني
صحيح الأحكام (209 - 210) ، تحذير الساجد (33)
الحكم: صحيح الأحكام (209 - 210) ، تحذير الساجد (33)