بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد ”بغلی ہمارے لیے ہے اور صندوقی اوروں کے لیے“ کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد ”بغلی ہمارے لیے ہے اور صندوقی اوروں کے لیے“ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1045 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ ، ويوسف بن موسى القطان البغدادي ، حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، ويوسف بن موسى القطان البغدادي، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا ". وَفِي الْبَاب: عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عباس کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ، عائشہ، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الجنائز65 (3208) سنن النسائی/الجنائز 85 (2011) سنن ابن ماجہ/الجنائز 39 (1554) (تحفة الأشراف: 5542) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ «اللحد لنا» کا مطلب ہے «اللحد لي» یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے یا «اللحد لنا» کا مطلب «اللحد اختيارنا» ہے یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ صندوقی قبر مسلمانوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے والا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1554)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف / د+3208 ، ن:2011 ، جه:1554
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1554)