ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ اشْتَكَى عَيْنَيْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَسَأَلَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، فَقَالَ: اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَذْكُرُهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يَتَدَاوَى الْمُحْرِمُ بِدَوَاءٍ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کر لو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا:
”ان پر ایلوے کا لیپ کر لو
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔
[سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 952] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 12 (1204)، سنن ابی داود/ المناسک 37 (1838)، سنن النسائی/المناسک 45 (2712)، (تحفة الأشراف: 9777)، مسند احمد (1/60، 65، 68، 69)، سنن الدارمی/المناسک 83 (1946) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایلوے، یا اس جیسی چیز جس میں خوشبو نہ ہو سے آنکھوں میں لیپ لگانا جائز ہے، اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں ہو گا، رہیں ایسی چیزیں جن میں خوشبو ہو تو بوقت ضرورت و حاجت ان سے بھی لیپ کرنا درست ہو گا، لیکن اس پر فدیہ دینا ہو گا، علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ بوقت ضرورت محرم کے لیے آنکھ میں سرمہ لگانا جس میں خوشبو نہ ہو جائز ہے، اس سے اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں آئے گا، البتہ زینت کے لیے سرمہ لگانے کو امام شافعی وغیرہ نے مکروہ کہا ہے، اور ایک جماعت نے اس سے منع کیا ہے، امام احمد اور اسحاق کی بھی یہی رائے ہے کہ زینت کے لیے سرمہ لگانا درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (1612)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (1612)