بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حائضہ عورت حج کے کون کون سے مناسک ادا کرے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: حائضہ عورت حج کے کون کون سے مناسک ادا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 945 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شَرِيكٌ ، جَابِرٍ وَهُوَ: ابْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ: ابْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " حِضْتُ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: الْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا مَا خَلَا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ مجھے حیض آ گیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس طریق کے علاوہ سے بھی عائشہ سے مروی ہے۔
۲- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ حائضہ خانہ کعبہ کے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرے گی۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16013) (صحیح) (سند میں جابر جعفی سخت ضعیف ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الحیض 7 (305)، والحج 33 (1506)، و81 (1650)، والعمرة 9 (1788)، والأضاحي 3 (5548)، و10 (5559)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/ المناسک 23 (1782)، سنن النسائی/الطہارة 183 (291)، والحیض 1 (349)، والجہاد 5 (2742)، سنن ابن ماجہ/المناسک 36 (2963)، سنن الدارمی/المناسک 62 (1945) من غیر ہذا الطریق وبسیاق آخر۔»
وضاحت
۱؎: بخاری و مسلم کی روایت میں ہے «أهلي بالحج واصنعي ما يصنع الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت» یعنی حج کا تلبیہ پکارو اور وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2963)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2963)