بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 933 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے ۱؎ اور حج مقبول ۲؎ کا بدلہ جنت ہی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 79 (1349)، (تحفة الأشراف: 12556)، مسند احمد (2/246، 461) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/العمرة (1773)، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور) سنن النسائی/الحج 3 (2623)، و5 (2630)، سنن ابن ماجہ/المناسک 3 (2888)، موطا امام مالک/الحج 21 (65)، مسند احمد (2/262)، سنن الدارمی/المناسک 7 (1802)، من غیر ہذا الطریق۔»
وضاحت
۱؎: مراد صغائر (چھوٹے گناہ) ہیں نہ کہ کبائر (بڑے گناہ) کیونکہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔
۲؎: حج مقبول وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کی ملاوٹ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2888)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2888)