بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ذبح کرنے سے پہلے سر مونڈا لینے یا رمی جمرات سے پہلے قربانی کر لینے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: ذبح کرنے سے پہلے سر مونڈا لینے یا رمی جمرات سے پہلے قربانی کر لینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 916 جامع ترمذی
سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ: " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ ". وَسَأَلَهُ آخَرُ، فَقَالَ: نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا قَدَّمَ نُسُكًا قَبْلَ نُسُكٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: اب ذبح کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرے نے پوچھا: میں نے رمی سے پہلے نحر (ذبح) کر لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، جابر، ابن عباس، ابن عمر، اسامہ بن شریک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے،
۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کسی نسک کو یعنی رمی یا نحر یا حلق وغیرہ میں سے کسی ایک کو دوسرے سے پہلے کر لے تو اس پر دم (ذبیحہ) لازم ہو گا (مگر یہ بات بغیر دلیل کے ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم 23 (83)، والحج 131 (1736)، والأیمان والنذور 15 (6665)، صحیح مسلم/الحج 57 (1306)، سنن ابی داود/ المناسک 88 (2014)، سنن ابن ماجہ/المناسک 74 (3051) (تحفة الأشراف: 8906)، موطا امام مالک/الحج 81 (242)، سنن الدارمی/المناسک 65 (1948) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3051)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3051)