أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامٍ
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ نَحَرَ نُسُكَهُ، ثُمَّ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، فَقَالَ: " اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ". حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: جب نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمرہ کی رمی کر لی تو اپنے ہدی کے اونٹ نحر (ذبح) کیے۔ پھر سر مونڈنے والے کو اپنے سر کا داہنا جانب
۱؎ دیا اور اس نے سر مونڈا، تو یہ بال آپ نے ابوطلحہ کو دئیے، پھر اپنا بایاں جانب اسے دیا تو اس نے اسے بھی مونڈا تو آپ نے فرمایا:
”یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دو
“ ۲؎۔ ابن ابی عمر کی سند سے ہشام سے اسی طرح حدیث روایت ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 912] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 56 (1305)، سنن ابی داود/ الحج 79 (190) (تحفة الأشراف: 1456) (صحیح) وأخرجہ البخاري الوضوء 23 (171) من غیر ہذا الوجہ بتغیر یسیر في السیاق۔»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجی حلق یا تقصیر (بال مونڈنا یا کٹوانا کا کام) داہنی جانب سے شروع کرے، مونڈنے والے کو بھی اس سنت کا خیال رکھنا چاہیئے۔
۲؎: یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موئے مبارک کی خصوصیت ہے، دوسرے اولیاء و صلحاء کے بالوں سے تبرک سلف کا شیوہ نہیں رہا یہی بات یا تھوک وغیرہ سے تبرک میں بھی ہے۔ قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (1085) ، صحيح أبي داود (1730)
الحكم: صحيح، الإرواء (1085) ، صحيح أبي داود (1730)