بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 846 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَطَلْحَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ، وَالْمُطَّلِبُ لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا إِذَا لَمْ يَصْطَدْهُ أَوْ لَمْ يُصْطَدْ مِنْ أَجْلِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذَا أَحْسَنُ حَدِيثٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَاب وَأَفْسَرُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں ابوقتادہ اور طلحہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۲- جابر کی حدیث مفسَّر ہے،
۳- اور ہم مُطّلب کا جابر سے سماع نہیں جانتے،
۴- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ محرم کے لیے شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب اس نے خود اس کا شکار نہ کیا ہو، نہ ہی وہ اس کے لیے کیا گیا ہو،
۵- شافعی کہتے ہیں: یہ اس باب میں مروی سب سے اچھی اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے، اور اسی پر عمل ہے۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الحج 41 (1851)، سنن النسائی/الحج 81 (2830)، (تحفة الأشراف: 3098)، مسند احمد (3/362) (ضعیف) (سند میں عمروبن ابی عمرو ضعیف ہیں، لیکن اگلی روایت سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (2700 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (3524) ، ضعيف أبي داود (401 / 1851) //
قال الشيخ زبير على زئي
(846) إسناده ضعيف / د 1851، ن 2830
الحكم: ضعيف، المشكاة (2700 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (3524) ، ضعيف أبي داود (401 / 1851) //
حدیث نمبر: 847 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، نَافِعٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ آپ جب مکے کا کچھ راستہ طے کر چکے تو وہ اپنے بعض محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جب کہ ابوقتادہ خود غیر محرم تھے، اسی دوران انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دے دیں تو ان لوگوں نے اسے انہیں دینے سے انکار کیا۔ پھر انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا۔ تو ان لوگوں نے اسے بھی اٹھا کر دینے سے انکار کیا تو انہوں نے اسے خود ہی (اتر کر) اٹھا لیا اور شکار کا پیچھا کیا اور اسے مار ڈالا، تو بعض صحابہ کرام نے اس شکار میں سے کھایا اور بعض نے نہیں کھایا۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر ملے اور اس بارے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ تو ایک ایسی غذا ہے جسے اللہ نے تمہیں کھلایا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/جزاء الصید 4 (1823)، والجہاد 88 (2914)، والذباع 10 (5490)، و11 (5492)، صحیح مسلم/الحج 8 (1196)، سنن ابی داود/ الحج 41 (1852)، سنن النسائی/الحج 78 (2818)، (تحفة الأشراف: 12131)، موطا امام مالک/الحج 24 (76)، مسند احمد (5/301) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید 2 (1821)، و3 (1822)، و5 (1824)، والہبة 3 (2570)، والجہاد 46 (2854)، والأطعمة 19 (5406، 5407)، سنن ابن ماجہ/المناسک 93 (3093)، مسند احمد (5/307)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1867) من غیر ہذا الطریق۔»
وضاحت
۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خشکی کا شکار اگر کسی غیر احرام والے نے اپنے لیے کیا ہو اور محرم نے کسی طرح کا تعاون اس میں نہ کیا ہو تو اس میں اسے محرم کے لیے کھانا جائز ہے، اور اگر کسی غیر محرم نے خشکی کا شکار محرم کے لیے کیا ہو یا محرم نے اس میں کسی طرح کا تعاون کیا ہو تو محرم کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (1028) ، صحيح أبي داود (1623)
الحكم: صحيح، الإرواء (1028) ، صحيح أبي داود (1623)
حدیث نمبر: 848 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابوقتادہ سے نیل گائے کے بارے میں ابونضر ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے البتہ زید بن اسلم کی اس حدیث میں اتنا زائد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 12120) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح انظر الذي قبله (847)
الحكم: صحيح انظر الذي قبله (847)