بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو احرام کی حالت میں کرتا یا جبہ پہنے ہو۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: جو احرام کی حالت میں کرتا یا جبہ پہنے ہو۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 835 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: " رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا قَدْ أَحْرَمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْزِعَهَا ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اعرابی کو دیکھا جو احرام کی حالت میں کرتا پہنے ہوئے تھا۔ تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الحج 31 (1820)، (4/224)، وانظر الحدیث الآتي (تحفة الأشراف: 11844) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جعرانہ میں تھے تفصیل کے لیے دیکھئیے ابوداؤد المناسک ۳۱، نسائی الحج ۲۹۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (1596 - 1599)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (1596 - 1599)
حدیث نمبر: 836 جامع ترمذی
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَطَاءٍ ، صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، أَبِيهِ ، قَتَادَةُ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَطَاءٍ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، أَبِيه
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. وَهَذَا أَصَحُّ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ قَتَادَةُ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ یہ زیادہ صحیح ہے اور حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اسی طرح اسے قتادہ، حجاج بن ارطاۃ اور دوسرے کئی لوگوں نے عطا سے اور انہوں نے یعلیٰ بن امیہ سے روایت کی ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جسے عمرو بن دینار اور ابن جریج نے عطاء سے، اور عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے اور صفوان نے اپنے والد یعلیٰ سے اور یعلیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 17 (1536)، والعمرة 10 (1789)، وجزاء الصید 19 (1847)، والمغازي 56 (4329)، وفضائل القرآن 2 (4985)، صحیح مسلم/الحج 1 (1180)، سنن ابی داود/ الحج 31 (1819)، سنن النسائی/الحج 29 (2669)، و44 (2709-2711)، (تحفة الأشراف: 11836)، مسند احمد (4/224) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس قصہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ابوداؤد المناسک ۳۱، ونسائی الحج ۲۹۔
قال الشيخ الألباني
**
الحكم: **