بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حج اور عمرہ کے ایک ساتھ کرنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: حج اور عمرہ کے ایک ساتھ کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 821 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، وَاخْتَارُوهُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو «لبيك بعمرة وحجة» فرماتے سنا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمر اور عمران بن حصین سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، اہل کوفہ وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 611) (صحیح) وقد أخرجہ کل من: صحیح البخاری/المغازی 61 (4354)، وصحیح مسلم/الحج 27 (1232)، من غیر ھذا الطریق۔»
وضاحت
۱؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرے دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارا۔ انس رضی الله عنہ کا بیان اس بنیاد پر ہے کہ جب آپ کو حکم دیا گیا کہ حج میں عمرہ بھی شامل کر لیں تو آپ سے کہا گیا «قل عمرۃ فی حجۃ» اس بناء کے انس نے یہ روایت بیان کی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2968 - 2969)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2968 - 2969)