بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے گی نماز کی نہیں۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے گی نماز کی نہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 787 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَطْهُرُ " فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصِّيَامِ وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا، إِنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الصِّيَامَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَعُبَيْدَةُ هُوَ ابْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ الْكُوفِيُّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْكَرِيمِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ہمیں حیض آتا پھر ہم پاک ہو جاتے تو آپ ہمیں روزے قضاء کرنے کا حکم دیتے اور نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- یہ معاذہ سے بھی مروی ہے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے،
۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، ہم ان کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں جانتے کہ حائضہ عورت روزے کی قضاء کرے گی، نماز کی نہیں کرے گی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الصیام 13 (1670)، سنن الدارمی/الطہارة 101 (1019)، (تحفة الأشراف: 15974) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الحیض 15 (335)، سنن ابی داود/ الطہارة 105 (263)، سنن النسائی/الصیام 64 (2320)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 119 (631)، مسند احمد (6/23، 231- 232)، سنن الدارمی/الطہارة 101 (1020) من غیر ہذا الطریق وبتصرف یسیر فی السیاق۔»
وضاحت
۱؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ روزے کی قضاء اتنی مشکل نہیں ہے جتنی نماز کی قضاء ہے کیونکہ یہ پورے سال میں صرف ایک بار کی بات ہوتی ہے اس کے برخلاف نماز حیض کی وجہ سے ہر مہینے چھ یا سات دن کی نماز چھوڑنی پڑتی ہے، اور کبھی کبھی دس دس دن کی نماز چھوڑنی پڑ جاتی ہے، اس طرح سال کے تقریباً چار مہینے نماز کی قضاء کرنی پڑے گی جو انتہائی دشوار امر ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (631)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (631)