بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: روزہ دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو کیسا ہے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: روزہ دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 721 جامع ترمذی
أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، قَتَادَةَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلَا يُفْطِرْ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھول کر کچھ کھا پی لیا، وہ روزہ نہ توڑے، یہ روزی ہے جو اللہ نے اسے دی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14497) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بخاری کی روایت ہے «فإنما أطعمه الله وسقاه» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1673)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1673)
حدیث نمبر: 722 جامع ترمذی
أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عَوْفٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، وَخَلَّاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، وَخَلَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأُمِّ إِسْحَاق الْغَنَوِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: إِذَا أَكَلَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور ام اسحاق غنویہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں،
۴- مالک بن انس کہتے ہیں کہ جب کوئی رمضان میں بھول کر کھا پی لے تو اس پر روزوں کی قضاء لازم ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأیمان والنذور 15 (6669)، سنن ابن ماجہ/الصیام 15 (1673)، و (تحفة الأشراف: 12303، و1447) (صحیح) وأخرجہ سنن ابی داود/ الصیام 39 (2398) من غیر ہذا الطریق والسیاق، وانظر ما قبلہ»
قال الشيخ الألباني
**
الحكم: **