بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سحری تاخیر سے کھانے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: سحری تاخیر سے کھانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 703 جامع ترمذی
يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ "، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانَ قَدْرُ ذَلِكَ؟ قَالَ: " قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، انس کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اس کی مقدار کتنی تھی؟ ۱؎ انہوں نے کہا: پچاس آیتوں کے (پڑھنے کے) بقدر ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المواقیت 28 (575)، والصوم 19 (1921)، صحیح مسلم/الصیام 9 (1097)، سنن النسائی/الصیام 21 (2157)، سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1994)، (تحفة الأشراف: 3696)، مسند احمد (5/182، 185، 186، 188، 192)، سنن الدارمی/الصوم 8 (1702) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ان دونوں کے بیچ میں کتنا وقفہ تھا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری بالکل آخری وقت میں کھائی جائے، یہی مسنون طریقہ ہے تاہم صبح صادق سے پہلے کھا لی جائے اور یہ وقفہ پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 704 جامع ترمذی
هَنَّادٌ ، وَكِيعٌ ، هِشَامٍ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: اسْتَحَبُّوا تَأْخِيرَ السُّحُورِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ہشام سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے: پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ان لوگوں نے سحری میں دیر کرنے کو پسند کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
**
الحكم: **