بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: سفر کے احکام و مسائل باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 613 جامع ترمذی
هَنَّادٌ ، قَبِيصَةُ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَمَّارٍ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنبی کو جب وہ کھانا، پینا اور سونا چاہے اس بات کی رخصت دی کہ وہ اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الطہارة 89 (224)، (تحفة الأشراف: 10371) (ضعیف) (اس میں دو علتیں ہیں: سند میں یحییٰ اور عمار کے درمیان انقطاع ہے اور ”عطاء خراسانی“ ضعیف ہیں لیکن سونے کے لیے وضوء رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی متابعات و شواہد کی بنا پر۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ضعيف أبي داود (28)
قال الشيخ زبير على زئي
(613) إسناده ضعيف /د 225
الحكم: ضعيف، ضعيف أبي داود (28)