بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نفل نماز میں کس قدر چلنا اور کتنا کام کرنا جائز ہے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: سفر کے احکام و مسائل باب: نفل نماز میں کس قدر چلنا اور کتنا کام کرنا جائز ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 601 جامع ترمذی
أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ، وَالْبَاب عَلَيْهِ مُغْلَقٌ، فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ ". وَوَصَفَتِ الْبَاب فِي الْقِبْلَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں گھر آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا، تو آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھولا۔ پھر اپنی جگہ لوٹ گئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصلاة 169 (922)، سنن النسائی/السہو 14 (1207)، (تحفة الأشراف: 16417)، مسند احمد (6/183، 2340) (حسن)»
وضاحت
۱؎: سنت و نفل کے اندر اس طرح سے چلنا کہ قبلہ سے انحراف واقع نہ ہو جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن، صحيح أبي داود (855) ، المشكاة (1005) ، الإرواء (386)
قال الشيخ زبير على زئي
(601) إسناده ضعيف / د 922، ن 1207
الحكم: حسن، صحيح أبي داود (855) ، المشكاة (1005) ، الإرواء (386)