بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز میں خشوع و خضوع کرنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: نماز میں خشوع و خضوع کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 385 جامع ترمذی
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ ، رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَخَشَّعُ وَتَضَرَّعُ وَتَمَسْكَنُ وَتَذَرَّعُ وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ، يَقُولُ: تَرْفَعُهُمَا إِلَى رَبِّكَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهُوَ كَذَا وَكَذَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وقَالَ غَيْرُ ابْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: مَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ: رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ فَأَخْطَأَ فِي مَوَاضِعَ، فَقَالَ: عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ وَهوَ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَإِنَّمَا هُو عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ يَعْنِي أَصَحَّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، نماز خشوع و خضوع، مسکنت اور گریہ وزاری کا اظہار ہے، اور تم اپنے دونوں ہاتھ اٹھاؤ۔ یعنی تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے رب کے سامنے اٹھاؤ اس حال میں کہ ہتھیلیاں تمہارے منہ کی طرف ہوں اور کہہ: اے رب! اے رب! اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ ایسا ایسا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مبارک کے علاوہ اور لوگوں نے اس حدیث میں «من لم يفعل ذلك فهي خداج» جس نے ایسا نہیں کیا اس کی نماز ناقص ہے کہا ہے،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ شعبہ نے یہ حدیث عبدربہ بن سعید سے روایت کی ہے اور ان سے کئی مقامات پر غلطیاں ہوئی ہیں: ایک تو یہ کہ انہوں نے انس بن ابی انس سے روایت کی حالانکہ وہ عمران بن ابی انس ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے «عن عبدالله بن حارث» کہا ہے حالانکہ وہ «عبدالله بن نافع بن العمياء عن ربيعة بن الحارث» ہے، تیسرے یہ کہ شعبہ نے «عن عبدالله بن الحارث عن المطلب عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» کہا ہے حالانکہ صحیح «عن ربيعة بن الحارث بن عبدالمطلب عن الفضل بن عباس عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» ہے۔ محمد بن اسماعیل (بخاری) کہتے ہیں: لیث بن سعد کی حدیث صحیح ہے یعنی شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے (ورنہ اصلاً تو ضعیف ہی ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف ورواہ النسائی في الکبری فی الصلاة (119) (تحفة الأشراف: 11043) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن نافع ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (1325) // ضعيف سنن ابن ماجة (277) ، ضعيف الجامع الصغير (3512) ، ضعيف أبي داود (282 / 1296) نحوه //
قال الشيخ زبير على زئي
(385) إسناده ضعيف
عبدالله بن نافع بن العمياء : مجھول (تق : 3658) بل ضعفه راجع (د 1296)
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (1325) // ضعيف سنن ابن ماجة (277) ، ضعيف الجامع الصغير (3512) ، ضعيف أبي داود (282 / 1296) نحوه //