بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 373 جامع ترمذی
الْأَنْصَارِيُّ ، مَعْنٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا ". وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَفْصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ جَالِسًا، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ "، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ ". قَالَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق: وَالْعَمَلُ عَلَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ كَأَنَّهُمَا رَأَيَا كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا مَعْمُولًا بِهِمَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ جب وفات میں ایک سال رہ گیا تو آپ بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے لگے۔ اور سورت پڑھتے تو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہو جاتی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ام سلمہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہے،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور قرأت کرتے پھر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ ہی کر کرتے۔
۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دونوں حدیثیں صحیح اور معمول بہ ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 16 (733)، سنن النسائی/قیام اللیل 19 (1659)، (تحفة الأشراف: 15812)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (21)، مسند احمد (6/285) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: لیکن نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اجر امتیوں کی طرح آدھا نہیں ہے، یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، صفة الصلاة // 60 //
الحكم: صحيح، صفة الصلاة // 60 //
حدیث نمبر: 374 جامع ترمذی
الْأَنْصَارِيُّ ، مَعْنٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرأت بھی بیٹھ ہی کر کرتے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 20 (1118، 1119)، والتہجد 16 (1148)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابی داود/ الصلاة 179 (953، 954)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1649)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1227)، (تحفة الأشراف: 17709)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (23)، مسند احمد (6/17846، 231) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1226)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1226)
حدیث نمبر: 375 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ وَهُوَ: الْحَذَّاءُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ وَهُوَ: الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَطَوُّعِهِ، قَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ جَالِسٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ جَالِسٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ رات تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور دیر تک بیٹھ کر پڑھتے جب آپ کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے کھڑے کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی کرتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، سنن ابی داود/ الصلاة 290 (1251)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1647، 1648)، (تحفة الأشراف: 16207)، مسند احمد (6/30) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1228)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1228)