بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امام کا دعا کو اپنے لیے خاص کرنے کی کراہت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: امام کا دعا کو اپنے لیے خاص کرنے کی کراہت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 357 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ ، يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ الْحِمْصِيِّ ، ثَوْبَانَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، السَّفْرِ بْنِ نُسَيْرٍ ، يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِي أُمَامَةَ ، يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ الْحِمْصِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ، فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا يَؤُمَّ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ حَقِنٌ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ثَوْبَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّ حَدِيثَ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ فِي هَذَا أَجْوَدُ إِسْنَادًا وَأَشْهَرُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھے جب تک کہ گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ لے لے۔ اگر اس نے (جھانک کر) دیکھا تو گویا وہ اندر داخل ہو گیا۔ اور کوئی لوگوں کی امامت اس طرح نہ کرے کہ ان کو چھوڑ کر دعا کو صرف اپنے لیے خاص کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، اور نہ کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو اور حال یہ ہو کہ وہ پاخانہ اور پیشاب کو روکے ہوئے ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ثوبان رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- یہ حدیث معاویہ بن صالح سے بھی مروی ہے، معاویہ نے اس کو بطریق: «سفر بن نسير عن يزيد بن شريح عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» روایت کی ہے، نیز یہ حدیث یزید بن شریح ہی کے واسطے سے بطریق: «أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» روایت کی گئی ہے۔ یزید بن شریح کی حدیث بطریق: «أبي حى المؤذن عن ثوبان» سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور مشہور ہے،
۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«الطہارة 43 (90)، سنن ابن ماجہ/الإمامة 31 (923)، (تحفة الأشراف: 2089)، مسند احمد (5/280) (ضعیف) (سند میں ”یزید بن شریح“ ضعیف ہیں، مگر اس کے ”ولا يقوم إلى الصلاة و هو حقن“ پیشاب…“ والے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، لكن الجملة الأخيرة منه صحيحة، ابن ماجة (617) ، ضعيف أبي داود (11 و 12) // عندنا برقم (15 / 90 و 16 / 91) ، صحيح سنن ابن ماجة برقم (500) //
الحكم: ضعيف، لكن الجملة الأخيرة منه صحيحة، ابن ماجة (617) ، ضعيف أبي داود (11 و 12) // عندنا برقم (15 / 90 و 16 / 91) ، صحيح سنن ابن ماجة برقم (500) //