بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 348 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 14567)، وانظر مسند احمد (2/451، 491، 508) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «صلوا في مرابض الغنم» میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور «ولا تصلوا في أعطان الإبل» میں نہی تحریمی ہے، یعنی حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (768)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (768)
حدیث نمبر: 349 جامع ترمذی
أَبُو كُرَيْبٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ أَوْ بِنَحْوِهِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , وَالْبَرَاءِ , وَسَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق وَحَدِيثُ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَاسْمُ أَبِي حَصِينٍ: عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی اسی کے مثل یا اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ہمارے اصحاب کے نزدیک عمل اسی پر ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے،
۲- ابوحصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» روایت کی ہے غریب ہے،
۳- اسے اسرائیل نے بطریق: «أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة» موقوفاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے،
۴- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، سبرہ بن معبد جہنی، عبداللہ بن مغفل، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 12849) (صحیح)»
حدیث نمبر: 350 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو التَّيَّاحِ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 66 (234)، والصلاة 49 (429)، صحیح مسلم/المساجد 1 (524)، (تحفة الأشراف: 1693)، مسند احمد (3/123، 131، 194، 212، 244) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح