بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کون سی مسجد سب سے افضل ہے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: کون سی مسجد سب سے افضل ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 325 جامع ترمذی
الْأَنْصَارِيُّ ، مَعْنٌ ، مَالِكٌ ، قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عبد الله الأغر ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عبد الله الأغر، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، إِنَّمَا ذَكَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُوَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ اسْمُهُ: سَلْمَانُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ , وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , وَأَبِي ذَرٍّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد کی ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ بہتر ہے، سوائے مسجد الحرام کے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- کئی سندوں سے مروی ہے،
۳- اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة فی مسجد مکة والمدینة 1 (1190)، صحیح مسلم/الحج 94 (1394)، سنن النسائی/المساجد 7 (695)، والحج 124 (2902)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 195 (تحفة الأشراف: 13464)، وکذا (13551 و4960)، موطا امام مالک/القبلة 5 (9)، مسند احمد (2/239، 241، 256، 277، 278، 386، 466، 468، 473، 484، 485، 499)، سنن الدارمی/الصلاة 131 (1458) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1404)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1404)
حدیث نمبر: 326 جامع ترمذی
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَزَعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین مساجد کے سوا کسی اور جگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے، ۱- مسجد الحرام کے لیے، ۲- میری اس مسجد (مسجد نبوی) کے لیے، ۳- مسجد الاقصیٰ کے لیے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة 1 (1188)، و6 (1197)، وجزاء الصید 26 (1864)، والصوم 87 (1995)، صحیح مسلم/المناسک 74 (415/827)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 196 (1410)، (تحفة الأشراف: 4279) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ثواب کی نیت سے سفر نہ کیا جائے، مگر صرف انہی تین مساجد کی طرف، اس سے کوئی بھی چوتھی مسجد اور تمام مساجد و مقابر خارج ہو گئے، حتیٰ کہ قبر نبوی کی زیارت کی نیت سے بھی سفر جائز نہیں، ہاں مسجد نبوی کی نیت سے مدینہ جانے پر قبر نبوی کی مشروع زیارت جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1409)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1409)