بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 314 جامع ترمذی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، لَيْثٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، فَاطِمَةَ الْكُبْرَى
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ " وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ "
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فاطمہ بنت حسین اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) پر درود و سلام بھیجتے اور یہ دعا پڑھتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے اور جب نکلتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) پر صلاۃ (درود) و سلام بھیجتے اور یہ کہتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المساجد 13 (771)، (تحفة الأشراف: 18041) (صحیح) (فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبری کو نہیں پایا ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،، شیخ البانی کہتے ہیں: مغفرت کے جملے کو چھوڑ کر بقیہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی 510)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (771)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (771)
حدیث نمبر: 315 جامع ترمذی
وقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: قَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، قَالَ: كَانَ إِذَا دَخَلَ، قَالَ: " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ " وَإِذَا خَرَجَ، قَالَ: " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ , وَأَبِي أُسَيْدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهُرًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتك» اے میرے رب! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث (شواہد کی بنا پر) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے،
۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں،
۳- اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح انظر الذي قبله (314) ولفظه أصح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف / السند منقطع وانظر الحديث السابق : 314
الحكم: صحيح انظر الذي قبله (314) ولفظه أصح