بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جن کی رائے بسم اللہ الرحمن الرحیم زور سے پڑھنے کی ہے۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: جن کی رائے بسم اللہ الرحمن الرحیم زور سے پڑھنے کی ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 245 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، إِسْمَاعِيل بْنُ حَمَّادٍ ، أَبِي خَالِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ، وَقَدْ قَالَ: بِهَذَا عِدَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عُمَرَ , وَابْنُ عَبَّاسٍ , وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ رَأَوْا الْجَهْرَ بْ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ حَمَّادٍ هُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَأَبُو خَالِدٍ يُقَالُ: هُوَ أَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ وَاسْمُهُ: هُرْمُزُ وَهُوَ كُوفِيٌّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نماز «بسم الله الرحمن الرحيم» سے شروع کرتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس کی سند قوی نہیں ہے،
۲- صحابہ کرام میں سے جن میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی الله عنہم شامل ہیں اور ان کے بعد تابعین میں سے کئی اہل علم «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے کہنے کے قائل ہیں، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6537) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو خالد الوالبی لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
سنده ضعيف
قلت : سنده حسن لذاته ولكنه ضعفه الترمذي والعقيلي وغيرهما ولم يخالفهم أحد فالحديث ضعیف معلول .
الحكم: ضعيف الإسناد