بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مؤذن اذان دے چکے تو آدمی کون سی دعا پڑھے؟
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: مؤذن اذان دے چکے تو آدمی کون سی دعا پڑھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 210 جامع ترمذی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی الله علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی الله علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں تو اس کے (صغیرہ) گناہ بخش دیے جائیں گے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- اسے ہم صرف لیث بن سعد کی سند سے جانتے ہیں جسے وہ حکیم بن عبداللہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 7 (386)، سنن ابی داود/ الصلاة 36 (525)، سنن النسائی/الأذان 38 (680)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (721)، (تحفة الأشراف: 3877)، مسند احمد (1/181) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (721)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (721)