بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کئی بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: طہارت کے احکام و مسائل باب: کئی بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 140 جامع ترمذی
بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، مَعْمَرٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَعُودَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ هَذَا، عَنْ سُفْيَانَ , فَقَالَ: عَنْ أَبِي عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَنَسٍ , وَأَبُو عُرْوَةَ هُوَ: مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ , وَأَبُو الْخَطَّابِ: قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، وَهُوَ خَطَأٌ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي عُرْوَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک ہی غسل میں سبھی بیویوں کا چکر لگا لیتے تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابورافع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
۳- بہت سے اہل علم کا جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں یہی قول ہے کہ وضو کرنے سے پہلے دوبارہ جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحیض 6 (309)، سنن النسائی/الطہارة 170 (264)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 101 (588)، (تحفة الأشراف: 1336)، مسند احمد (3/225)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الغسل 12 (268)، و24 (284)، والنکاح 4 (5068)، و102 (5215)، سنن ابی داود/ الطہارة 85 (218) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی سب سے صحبت کر کے اخیر میں ایک غسل کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (588)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (588)