بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبیذ سے وضو کرنے کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: طہارت کے احکام و مسائل باب: نبیذ سے وضو کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 88 جامع ترمذی
هَنَّادٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي فَزَارَةَ ، أَبِي زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا فِي إِدَاوَتِكَ؟ فَقُلْتُ: نَبِيذٌ , فَقَالَ: تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو زَيْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، لَا تُعْرَفُ لَهُ رِوَايَةٌ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ بِالنَّبِيذِ، مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق , وقَالَ إِسْحَاق: إِنِ ابْتُلِيَ رَجُلٌ بِهَذَا فَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ وَتَيَمَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَوْلُ مَنْ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ أَقْرَبُ إِلَى الْكِتَابِ، وَأَشْبَهُ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارے مشکیزے میں کیا ہے؟ تو میں نے عرض کیا: نبیذ ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے تو آپ نے اسی سے وضو کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول آدمی ہیں اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ان سے جانی نہیں جاتی،
۲- بعض اہل علم کی رائے ہے نبیذ سے وضو جائز ہے انہیں میں سے سفیان ثوری وغیرہ ہیں، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبیذ سے وضو جائز نہیں ۲؎ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو یہی کرنا پڑ جائے تو وہ نبیذ سے وضو کر کے تیمم کر لے، یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے،
۳- جو لوگ نبیذ سے وضو کو جائز نہیں مانتے ان کا قول قرآن سے زیادہ قریب اور زیادہ قرین قیاس ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» جب تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو (النساء: 43) پوری آیت یوں ہے: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتى تغتسلوا وإن كنتم مرضى أو على سفر أو جاء أحد منكم من الغآئط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحواء بوجوهكم وأيديكم إن الله كان عفوا غفورا» [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 88]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الطہارة 42 (84)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 37 (384)، (تحفة الأشراف: 9603)، مسند احمد (1/402) (ضعیف) (سند میں ابو زید مجہول راوی ہیں۔)»
وضاحت
۱؎: نبیذ ایک مشروب ہے جو کھجور، کشمش، شہد گیہوں اور جو وغیرہ سے بنایا جاتا ہے۔
۲؎: یہی جمہور علما کا قول ہے، اور ان کی دلیل یہ ہے کہ نبیذ پانی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» (سورة النساء: 43) تو جب پانی نہ ہو تو نبیذ سے وضو کرنے کے بجائے تیمم کر لینا چاہیئے، اور باب کی اس حدیث کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے جو استدلال کے لیے احتجاج کے لائق نہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (384) ، //، ضعيف أبي داود (14 / 84) ، المشكاة (480) ، ضعيف سنن ابن ماجة (84) //
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف / د 84 ، جه 384
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (384) ، //، ضعيف أبي داود (14 / 84) ، المشكاة (480) ، ضعيف سنن ابن ماجة (84) //