بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: طہارت کے احکام و مسائل باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 68 جامع ترمذی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی ٹھہرے ہوئے پانی ۱؎ میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 68]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 68 (239)، صحیح مسلم/الطہارة 28 (282)، سنن ابی داود/ الطہارة 36 (69)، سنن النسائی/الطہارة 47 (58)، و139 (221)، و140 (222)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 25 (343)، (تحفة الأشراف: 14722)، مسند احمد (2/316، 362، 364)، سنن الدارمی/ الطہارة 54 (757) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد ایسا پانی ہے جو دریا کی طرح جاری نہ ہو جیسے حوض اور تالاب وغیرہ کا پانی، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہو گا، یہ پانی کم ہو یا زیادہ اس میں نجاست ڈالنے سے بچنا چاہیئے تاکہ اس میں مزید بدبو نہ ہو، ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے بھی سرانڈ پیدا ہو جاتی ہے، اگر اس میں نجاست (گندگی) ڈال دی جائے تو اس کی سڑاند بڑھ جائے گی اور اس سے اس کے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (344)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (344)