مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبَا حَاجِبٍ ، الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ " , أَوْ قَالَ: " بِسُؤْرِهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ: سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ " , وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے
۱؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں -
«أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا
۲؎۔
[سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 64] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظرما قبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس نہی سے نہی تنزیہی مراد ہے، یعنی نہ استعمال کرنا بہتر ہے، اس پر قرینہ وہ احادیث ہیں جو جواز پر دلالت کرتی ہیں، یا یہ ممانعت محمول ہو گی اس پانی پر جو اعضائے وضو سے گرتا ہے کیونکہ وہ «ماء» مستعمل استعمال ہوا پانی ہے۔
۲؎: مطلب یہ کہ محمود بن غیلان کی روایت شک کے صیغے کے ساتھ ہے اور محمد بن بشار کی بغیر شک کے صیغے سے۔ قال الشيخ الألباني
صحيح انظر ما قبله (63)
الحكم: صحيح انظر ما قبله (63)