إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، شَرِيكٌ ، ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ ، لِأَبِي جَعْفَرٍ ، جَابِرٌ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ: حَدَّثَكَ جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً , وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ , وَثَلَاثًا ثَلَاثًا " , قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا جابر رضی الله عنہما نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (بیان کیا ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 45]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الطہارة 45 (410) (تحفة الأشراف: 2592) (ضعیف) (سند میں ابو حمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی، و اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (410) ، //، المشكاة (422) ، ضعيف سنن ابن ماجة (91) //
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف جداً / جه 410
ثابت بن أبي صفيه : ضعيف رافضي (تق : 818) وشريك القاضي عنعن (يأتي : 112) و حديث البخاري (159‘158‘157) يعني عن هذا الحديث .
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (410) ، //، المشكاة (422) ، ضعيف سنن ابن ماجة (91) //