بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 942 — باب: حج میں شرط لگانے سے متعلق ایک اور باب۔
کتب جامع ترمذی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: حج میں شرط لگانے سے متعلق ایک اور باب۔ حدیث 942
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ، وَيَقُولُ: " أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ حج میں شرط لگانے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ کافی نہیں ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المحصر 2 (1810)، سنن النسائی/الحج 61 (2770) (تحفة الأشراف: 6937)، مسند احمد (2/33) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: دراصل ابن عمر رضی الله عنہما نے یہ بات ابن عباس رضی الله عنہما کی تردید میں کہی تھی جو شرط لگانے کا فتوی دیتے تھے، ان کو ضباعہ رضی الله عنہا والی حدیث نہیں پہنچی تھی ورنہ ایسی بات نہ کہتے، اور آپ کا اشارہ صلح حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عمرہ سے روک دیئے جانے کی طرف تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (941) باب پر واپس اگلی حدیث (943) →