ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: التَّحْصِيبُ نُزُولُ الْأَبْطَحِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وادی محصب میں قیام کوئی چیز نہیں
۱؎، یہ تو بس ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قیام فرمایا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- «تحصیب» کے معنی ابطح میں قیام کرنے کے ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 922] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 147 (1766)، صحیح مسلم/الحج 59 (1312) (تحفة الأشراف: 5941) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زوال کے بعد آرام فرمانے کے لیے یہاں اقامت کی، ظہر و عصر اور مغرب اور عشاء پڑھی اور چودھویں رات گزاری، چونکہ آپ نے یہاں نزول فرمایا تھا اس لیے آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا، امام مالک امام شافعی اور جمہور اہل علم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی الله عنہم کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں۔
الحكم: صحيح