قُتَيْبَةُ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَنْتَظِرُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضُونَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (مزدلفہ سے) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے۔
[سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 895] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6473) (صحیح بما بعدہ) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”حکم“ نے ”مقسم“ سے صرف پانچ احادیث سنی ہیں، اور یہ حدیث شاید ان میں سے نہیں ہے؟)»
قال الشيخ الألباني
صحيح بما بعده (896)
الحكم: صحيح بما بعده (896)