مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " صَلَّى بِجَمْعٍ، فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِإِقَامَةٍ "، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما نے مزدلفہ میں نماز پڑھی اور ایک اقامت سے مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھیں اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس جگہ پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الحج 65 (1929) (تحفة الأشراف: 7285) (صحیح) (ہر صلاة کے لیے الگ الگ اقامت کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے/ دیکھئے اگلی روایت)»
وضاحت
۱؎: اس کے برخلاف جابر رضی الله عنہ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے ایک اذان اور دو تکبیروں سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (1682 - 1690)
قال الشيخ زبير على زئي
(887) إسناده ضعيف / د 1929
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (1682 - 1690)