قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: الْبَيْدَاءُ الَّتِي يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " وَاللَّهِ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ. قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: بیداء جس کے بارے میں لوگ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہیں (کہ وہاں سے احرام باندھا)
۱؎ اللہ کی قسم! رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد (ذی الحلیفہ) کے پاس درخت کے قریب تلبیہ پکارا
۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 818] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 2 (1515)، و20 (1541)، والجہاد 53 (2865)، صحیح مسلم/الحج (1186)، سنن ابی داود/ المناسک 21 (1771)، سنن النسائی/الحج 56 (2758)، (تحفة الأشراف: 7020)، موطا امام مالک/الحج 9 (30)، مسند احمد (2/10، 66، 154) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ بات ابن عمر نے ان لوگوں کی غلط فہمی کے ازالہ کے لیے کہی جو یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیداء کے مقام سے احرام باندھا تھا۔
۲؎: ان روایات میں بظاہر تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ آپ نے احرام تو مسجد کے اندر ہی باندھا تھا جنہوں نے وہاں آپ کے احرام کا مشاہدہ کیا انہوں نے اس کا ذکر کیا اور جب آپ مسجد سے باہر تشریف لائے اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بلند آواز سے تلبیہ پکارا تو دیکھنے والوں نے سمجھا کہ آپ نے اسی وقت احرام باندھا ہے، پھر جب آپ بیداء پر پہنچے اور آپ نے لبیک کہا تو جن حضرات نے وہاں لبیک کہتے سنا انہوں نے سمجھا کہ آپ نے یہاں احرام باندھا ہے، گویا ہر شخص نے اپنے مشاہدہ کے مطابق خبر دی۔
الحكم: صحيح