قُتَيْبَةُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: " دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ ". قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَعَائِشَةَ , وَزَيْنَبَ , وَلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبِي السَّمْحِ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَأَبِي لَيْلَى , وَابْنِ عَبَّاسٍ. قال أبو عيسى: وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق، قَالُوا: يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام قیس بنت محصن رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا
۱؎، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں علی، عائشہ، زینب، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث، ابوالسمح، عبداللہ بن عمرو، ابولیلیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۲- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔
[سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 71] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 59 (223)، والطب 10 (5693)، صحیح مسلم/الطہارة 34 (287)، سنن ابی داود/ الطہارة 137 (374)، سنن النسائی/الطہارة 189 (303)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 77 (524)، (تحفة الأشراف: 18342) موطا امام مالک/30 (110)، مسند احمد (6/355، 356)، سنن الدارمی/الطہارة 62 (767) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس کی غذا صرف دودھ تھی، ابھی اس نے کھانا شروع نہیں کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (524)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (524)