عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَوْمًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا، فَقَالَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا (یعنی اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھائی) پھر آپ نے اپنے بالاخانے میں ۲۹ دن قیام کیا (پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے) تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے کا ایلاء کیا تھا؟ آپ نے فرمایا:
”مہینہ ۲۹ دن کا (بھی) ہوتا ہے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 690] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 583) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصلاة 18 (378)، والصوم 11 (1911)، والمظالم 25 (2469)، والنکاح 91 (5201)، والأیمان والنذور20 (6684)، سنن النسائی/الطلاق 32 (3486)، مسند احمد (3/200) من غیر ہذا الطریق عنہ»
الحكم: صحيح