بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 670 — باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
کتب جامع ترمذی کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟ حدیث 670
هَنَّادٌ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: " لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامُ؟ قَالَ: " ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ". وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟۔ آپ نے فرمایا: یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، اسماء بنت ابی بکر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/التجارات 65 (2295)، (تحفة الأشراف: 4883)، مسند احمد (5/267) (حسن)»
وضاحت
۱؎: پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کر سکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی، بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (2295)
الحكم: حسن، ابن ماجة (2295)
← پچھلی حدیث (669) باب پر واپس اگلی حدیث (671) →