مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ وَهَذَا أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ میں ہر تیس گائے پر ایک سال کا بچھوا یا بچھیا زکاۃ میں لوں اور ہر چالیس پر دو سال کی بچھیا زکاۃ میں لوں، اور ہر (ذمّی) بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری
۱؎ کپڑے بطور جزیہ لوں
۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق:
«سفيان، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن مسروق» مرسلاً روایت کی ہے
۳؎ کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا اور اس میں
«فأمرني أن آخذ» کے بجائے
«فأمره أن يأخذ» ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے
۴؎۔
[سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 623] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الزکاة 4 (1577، 1578)، سنن النسائی/الزکاة 8 (2455)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 12 (1803)، (تحفة الأشراف: 11363)، مسند احمد (5/230)، سنن الدارمی/الزکاة5 (1664) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معافر: ہمدان کے ایک قبیلے کا نام ہے اسی کی طرف منسوب ہے۔
۲؎: اس حدیث میں گائے کے تفصیلی نصاب کا ذکر ہے، ساتھ ہی غیر مسلم سے جزیہ وصول کرنے کا بھی حکم ہے۔
۳؎: اس میں معافر کا ذکر نہیں ہے، اس کی تخریج ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
۴؎: یعنی یہ مرسل روایت اوپر والی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ مسروق کی ملاقات معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے نہیں ہے، ترمذی نے اسے اس کے شواہد کی وجہ سے حسن کہا ہے۔ قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1803)
قال الشيخ زبير على زئي
(623) إسناده ضعيف /د 1577، ن 2452، جه 1803
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1803)