مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ ، خَالِدِ بْنِ زِيَادٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زِيَادٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی خالد بن زیاد سے اسی طرح مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اس طرح مقاتل بن حیان کی سند سے جانتے ہیں انہوں نے اسے شہر بن حوشب سے روایت کیا ہے
۱؎۔
[سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 612] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (حسن) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے اس کی تقویت ہوتی ہے)»
وضاحت
۱؎: لیکن متابعات کی بنا پر حسن ہے۔