وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَرُوِي عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً رَكْعَةً، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ اسْمُهُ زَيْدُ بْنُ صَامِتٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صلاۃ خوف ادا کی، پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
۳- نیز کئی لوگوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں جماعتوں کو ایک ایک رکعت پڑھائی، تو آپ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی (امام کے ساتھ) ایک ایک رکعت۔
[سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 567] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»