مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفٍ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں گرہن کی نماز پڑھائی تو ہم آپ کی آواز نہیں سن پا رہے تھے
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے،
۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 562] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصلاة 262 (1184)، (فی سیاق طویل)، سنن النسائی/الکسوف 15 (1485)، و19 (1496)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1264)، (تحفة الأشراف: 4573) (ضعیف) (سند میں ”ثعلبہ“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت
۱؎: ایک تو یہ حدیث ضعیف ہے، دوسرے ”آواز نہیں سننا“ اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ سمرہ رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دور کھڑے ہوں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (1264) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (260) ، المشكاة (1490) ، ضعيف أبي داود (253 / 1184) //
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (1264) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (260) ، المشكاة (1490) ، ضعيف أبي داود (253 / 1184) //