هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَصَلَّى تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ نُصَلِّي فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر کیا، تو آپ نے انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھیں
۱؎، ابن عباس کہتے ہیں: تو ہم لوگ بھی انیس یا اس سے کم دنوں (کے سفر) میں دو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ اور جب ہم اس سے زیادہ قیام کرتے تو چار رکعت پڑھتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 549] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 1 (1080)، والمغازی 52 (4298)، سنن ابی داود/ الصلاة 279 (1230)، (بلفظ ”سبعة عشر“ وشاذ)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1075)، (تحفة الأشراف: 6134) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ فتح مکہ کا واقعہ ہے، اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ میں کتنے دن قیام کیا اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، بخاری کی روایت میں انیس دن کا ذکر ہے اور ابوداؤد کی ایک روایت میں اٹھارہ اور دوسری میں سترہ دن کا ذکر ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے دخول اور خروج کے دنوں کو شمار نہیں کیا اس نے سترہ کی روایت کی ہے، جس نے دخول کا شمار کیا خروج کا نہیں یا خروج کا شمار کیا اور دخول کا نہیں اس نے اٹھارہ کی روایت کی ہے، رہی پندرہ دن والی روایت تو یہ شاذ ہے اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ راوی نے سمجھا کہ اصل ۱۷ دن پھر اس میں سے دخول اور خروج کو خارج کر کے ۱۵ دن کی روایت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1075)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1075)