بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 514 — باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں احتباء کرنے کی کراہت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں احتباء کرنے کی کراہت کا بیان۔ حدیث 514
عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو مَرْحُومٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحِبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحِبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا يَرَيَانِ بِالْحِبْوَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ بَأْسًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمعہ کے دن جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- عام اہل علم نے جمعہ کے دن حبوہ کو مکروہ جانا ہے، اور بعض نے اس کی رخصت دی ہے، انہیں میں سے عبداللہ بن عمر وغیرہ ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ دونوں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصلاة 234 (1110)، (تحفة الأشراف: 11299)، مسند احمد (3/439) (حسن)»
وضاحت
۱؎: «حبوہ» ایک مخصوص بیٹھک کا نام ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ سرین پر بیٹھا جائے اور دونوں گھٹنوں کو کھڑا رکھا جائے اور انہیں دونوں ہاتھوں سے باندھ لیا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن، المشكاة (1293) ، صحيح أبي داود (1017)
الحكم: حسن، المشكاة (1293) ، صحيح أبي داود (1017)
← پچھلی حدیث (513) باب پر واپس اگلی حدیث (515) →